ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی|
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
تیرہویں خصوصیت: انتھک محنت، مسلسل جدوجہد اور قدردان وقت
رہبرِ شہید کی شخصیت کا ایک درخشاں اور کم نظیر پہلو ان کی انتھک محنت، شبانہ روز جدوجہد، غیر معمولی نظم و ضبط اور وقت کی بے مثال قدر شناسی تھی۔ آپ نے کبھی ذمہ داری کو منصب یا اعزاز نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک الٰہی امانت تصور کیا، جس کی ادائیگی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی آرام، آسائش اور سہولت کی نہیں بلکہ مسلسل خدمت، فکر، منصوبہ سازی اور میدانِ عمل میں موجود رہنے کی داستان ہے۔
رہبرِ شہید خود فرمایا کرتے تھے:"جب میں جوان تھا، میرے لیے دن اور رات کا کوئی فرق نہیں تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ میری جوانی مسلسل جدوجہد میں گزری اور آج بھی، عمر کے اس حصے میں بھی، میں نے اپنے لیے آرام و آسائش کو جائز نہیں سمجھا۔ جب تک زندہ ہوں اور کام کرنے کی طاقت رکھتا ہوں، اسی طرح خدمت کرتا رہوں گا۔"
یہ الفاظ صرف ایک ذاتی عادت کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ اسلامی قیادت کے اس تصور کو واضح کرتے ہیں جس میں قائد سب سے پہلے خود محنت، قربانی، استقامت اور احساسِ ذمہ داری کا نمونہ بنتا ہے۔ آپ کا ایمان تھا کہ جو شخص امت کی قیادت کا دعویٰ کرے، اسے سب سے زیادہ محنت بھی خود کرنی چاہیے۔
رہبرِ شہید کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آپ نے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بھی شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد، قید و بند، جلاوطنی اور مسلسل تبلیغ و بیداری میں اپنی جوانی صرف کی، اور انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی خدمت کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ خواہ دفاعِ مقدس کا دور ہو، ایامِ صدارت ہوں یا منصبِ رہبری، ہر مرحلے میں آپ شب و روز ملتِ ایران اور امتِ اسلامی کی خدمت میں مصروف رہے۔
ایامِ صدارت میں آپ کا روزانہ معمول اس غیر معمولی احساسِ ذمہ داری کا آئینہ دار تھا۔ آپ صبح سویرے دفتر پہنچتے اور رات گئے تک مسلسل کام کرتے۔ دفاعی، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، تعلیمی، سائنسی، بین الاقوامی اور عوامی مسائل کا جائزہ لیتے، مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر نظر رکھتے، اعلیٰ حکام سے مشاورت کرتے اور ملک کے اہم فیصلوں میں براہِ راست شریک ہوتے تھے۔
رہبرِ شہید عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کو اسلامی حکومت کا بنیادی اصول سمجھتے تھے۔ اسی لیے آپ نہ صرف مختلف طبقات کے نمائندوں، علماء، اساتذہ، نوجوانوں، طلبہ، شہداء کے اہلِ خانہ اور سماجی شخصیات سے مسلسل ملاقاتیں کرتے بلکہ عوام کے خطوط، درخواستوں اور شکایات کا بھی باقاعدہ مطالعہ کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک عوام سے دوری، اسلامی قیادت کی روح کے منافی تھی۔
رہبر شہید کی محنت صرف انتظامی امور تک محدود نہیں تھی بلکہ علمی، فکری اور ثقافتی میدان میں بھی یکساں نمایاں تھی۔ نمازِ جمعہ کے خطبات کی تیاری کے لیے کئی کئی گھنٹے مطالعہ، تحقیق، قرآن و حدیث سے رجوع اور حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیتے تاکہ ہر خطبہ امت کے لیے فکری رہنمائی، سیاسی بصیرت اور دینی آگہی کا جامع منشور بن سکے۔ اسی طرح آپ کی تقاریر، پیغامات اور مکتوبات ہمیشہ عمیق مطالعے اور گہری فکر کا مظہر رہے۔
رہبرِ شہید کی ایک اور نمایاں خصوصیت وقت کی غیر معمولی حفاظت تھی۔ آپ کا روزمرہ معمول انتہائی منظم تھا۔ آپ ہر لمحے کو ایک امانت سمجھتے تھے اور غیر ضروری مصروفیات یا بے مقصد ملاقاتوں سے حتی الامکان اجتناب کرتے تھے۔ آپ کا یہ نظم و ضبط اس بات کا ثبوت تھا کہ بڑی ذمہ داریاں صرف وہی افراد نبھا سکتے ہیں جو وقت کی صحیح قدر کرنا جانتے ہوں۔
مسلسل شبانہ روز محنت کا اثر ایک مرحلے پر آپ کی صحت پر بھی پڑا۔ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد واضح کیا کہ جسمانی کمزوری کی بنیادی وجہ بیماری نہیں بلکہ مسلسل اور غیر معمولی کام کا دباؤ ہے۔ انہوں نے کام کا بوجھ کم کرنے کا مشورہ دیا، لیکن رہبرِ شہید نے صرف طبی ضرورت کے مطابق معمولی کمی کی اور اپنی زندگی کا اصل محور، یعنی خدمتِ اسلام، انقلاب اور عوام، کبھی ترک نہیں کیا۔
رہبرِ شہید کی انتھک محنت کا راز صرف ذاتی قوتِ ارادی نہیں تھا بلکہ خدا پر کامل توکل، اخلاص، احساسِ تکلیف اور مقصد پر غیر متزلزل ایمان تھا۔ آپ بارہا اس بات پر زور دیتے تھے کہ اگر انسان اپنے کام کو اللہ کی رضا کے لیے انجام دے تو تھکاوٹ بھی عبادت بن جاتی ہے اور خدمت بھی جہاد کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
رہبرِ شہید کی یہ خصوصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظیم قومیں صرف بڑے نعروں سے نہیں بلکہ ایسے مخلص اور محنتی قائدین کی بدولت ترقی کرتی ہیں جو اپنی راحت پر قوم کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کی پوری زندگی اس قرآنی حقیقت کی عملی تفسیر تھی کہ "وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى"، یعنی انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
رہبرِ شہید کی انتھک محنت، وقت کی پابندی، مسلسل جدوجہد اور خدمتِ خلق کا یہ روشن نمونہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ یہ خصوصیت نہ صرف آپ کی انفرادی عظمت کو نمایاں کرتی ہے بلکہ اسلامی قیادت کا وہ عملی معیار بھی متعین کرتی ہے جس میں اقتدار کا مفہوم خدمت، ذمہ داری اور دائمی جدوجہد سے عبارت ہے۔









آپ کا تبصرہ